كِتَابُ الْفَضَائِلِ بَاب تَبَسُّمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحُسْنِ عِشْرَتِهِ صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا، «كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ، فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
کتاب: أنبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل کا بیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تبسم اور حسن معاشرت:۔ سماک بن حرب سے روایت ہے،انھوں نے کہا:میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا:کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شرکت کرتے تھے؟انھوں نے کہا:ہاں،بہت شرکت کی،آپ جس جگہ پر صبح کی نماز پڑھتے تھے تو سورج نکلنے سے پہلے وہاں نہیں اٹھتے تھے۔جب سورج نکل آیا تو آپ وہاں سے اٹھتے ،صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جاہلیت کے(کسی نہ کسی) معاملے کو لیتے اور(اس پر باہم) بات چیت کرتے تو ہنسی مذاق بھی کرتے،(لیکن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم (صرف ) مسکراتے تھے۔