كِتَابُ الْفَضَائِلِ بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم صحيح حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، وَاللهِ مَا قَالَ لِي: أُفًّا قَطُّ، وَلَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا؟ وَهَلَّا فَعَلْتَ كَذَا؟ " زَادَ أَبُو الرَّبِيعِ: لَيْسَ مِمَّا يَصْنَعُهُ الْخَادِمُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَاللهِ
کتاب: أنبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل کا بیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن اخلا ق:۔ سعید بن منصور اور ابو ربیع نے ہمیں حدیث بیان کی ،دونوں نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے ثابت بنانی سے حدیث سنائی ،انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا: میں نے (تقریباً)دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، اللہ کی قسم! آپ مجھ سے کبھی اُف تک نہیں کہا اور نہ کبھی کسی چیز لے لیے مجھ سے یہ کہا کہ تم نے فلا ں کا م کیوں کیا؟ یا فلا ں کا م کیوں نہ کیا۔؟ابو ربیع نے اضافہ کیا: (نہ آپ نے کبھی یہ فرما یا ) "خادم ایسا نہیں کرتا ۔"انھوں نے ان(انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی بات "اللہ کی قسم!"کا ذکر نہیں کیا۔