كِتَابُ الطَّهَارَةِ ابُ اسْتحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْمَقْبُرَةَ، فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا» قَالُوا: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ» فَقَالُوا: كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا "
کتاب: پاکی کا بیان وضو میں چہرےاور ہاتھ پاؤں کی روشنی اور سفیدی کو بڑھانا مستحب (پسندیدہ) ہے اسماعیل ( بن جعفر) نے علاء سے ، انہوں نے اپنے والد سےاور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہﷺقبرستان میں آئے اور فرمایا:’’اے ایمان والی قوم کے گھرانے ! تم سب پر سلامتی ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تمہیں ساتھ ملنے والے ہیں ، میری خواہش ہے کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو (بھی) دیکھا ہوتا ۔‘‘ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟ آپ نے جواب دیا:’’تم میرے ساتھی ہو اور ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک (دنیا میں ) نہیں آئے۔‘‘ اس پر انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو ،جو ابھی (دنیامیں ) نہیں آئے ، کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ نے فرمایا:’’بتاؤ! اگر کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان کسی کے سفید چہرے (اور ) سفید پاؤں والے گھوڑے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟‘‘ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ، اے اللہ کےرسول! آپ نے فرمایا:’’وہ وضو کی بناپر روشن چہروں ، سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض پر ان کا پیشروہوں گا، خبردار ! کچھ لوگ یقیناً میرے حوض سے پرے ہٹا ئے جائیں گے ، جیسے (کہیں اور کا) بھٹکا ہوا اونٹ (جوگلے کا حصہ نہیں ہوتا) پرے ہٹا دیا جاتا ہے ، میں ان کی آوازدوں گا، دیکھو! ادھر آ جاؤ۔ تو کہاجائے گا ، انہوں نے آپ کے بعد (اپنے قول و عمل کو ) بدل لیا تھا۔ تو میں کہوں گا: دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ۔‘‘