صحيح مسلم - حدیث 5761

كِتَابُ السَّلَامِ بَابُ كَرَاهَةِ التَّدَاوِي بِاللَّدُودِ صحيح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَأَشَارَ أَنْ لَا تَلُدُّونِي فَقُلْنَا كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ غَيْرُ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 5761

کتاب: سلامتی اور صحت کابیان زبردستی دوائی پلانا مکروہ ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،انھوں نے کہا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےمرض میں ہم نے آپ کی مرضی کے بغیر منہ کے کونے سے آپ کے دہن مبارک میں دوائی ڈالی،آپ نے اشارے سے روکا بھی کہ مجھے زبردستی دوائی نہ پلاؤ،ہم نے(آپس میں) کہا:یہ مریض کی طبعی طور پر دوائی کی ناپسندیدگی (کی وجہ سے) ہے۔جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم میں سے کوئی نہ بچے ،سب کو زبردستی(ہی) دوائی پلائی جائے،سوائے عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کیونکہ وہ تمھارے ساتھ موجود نہیں تھے۔"