كِتَابُ السَّلَامِ بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ لِي خَالٌ يَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّقَى قَالَ فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنْ الرُّقَى وَأَنَا أَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ فَقَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ
کتاب: سلامتی اور صحت کابیان نظر بد پہلو کی جلد پر نکلنے والے دانوں اور زہریلے ڈنگ سے( شفا کے لیے)دم کرنا مستحب ہے وکیع نے اعمش سے، انھوں نے ابو سفیان سے،انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا : میرے ایک ماموں تھے وہ بچھوکے کا ٹے پردم کرتے تھے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عمومی طور ہر طرح کے) دم کرنے سے منع فر ما یا ۔وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو ئے اور کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے دم کرنے سے منع فرما دیا ہے ۔میں بچھو کے کاٹے سے دم کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :"تم میں سے جو کو ئی اپنے بھا ئی کو فا ئدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ایسا کرے۔"