كِتَابُ السَّلَامِ بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ صحيح حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآلِ حَزْمٍ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ وَقَالَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ مَا لِي أَرَى أَجْسَامَ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً تُصِيبُهُمْ الْحَاجَةُ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ الْعَيْنُ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ قَالَ ارْقِيهِمْ قَالَتْ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ ارْقِيهِمْ
کتاب: سلامتی اور صحت کابیان نظر بد پہلو کی جلد پر نکلنے والے دانوں اور زہریلے ڈنگ سے( شفا کے لیے)دم کرنا مستحب ہے ابوعاصم نے ابن جریج سے روایت کی،کہا :مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آل (بنو عمروبن ) حزم کو سانپ (کے کا ٹے ) کا دم کرنے کی اجازت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فر ما یا :"کیا ہوا ہے میں نے اپنے بھا ئی (حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے بچوں کے جسم لا غر دیکھ رہا ہوں ،کیا انھیں بھوکا رہنا پڑتا ہے؟"انھوں نے کہا : نہیں لیکن انھیں نظر بد جلدی لگ جاتی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا :"انھیں دم کرو ۔"انھوں (اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا )نے کہا : تومیں نے (دم کے الفاظ کو) آپ کے سامنے پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا :"(ان الفاظ سے) ان کو دم کردو۔"