كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا صحيح حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا فَنَادَى: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ»
کتاب: پاکی کا بیان (وضو میں ) دونوں پاؤں مکمل طور پر دھونا واجب ہے یوسف بن ماہک نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت کی ، کہا: ایک سفر کے دوران میں نبی کریم ﷺ ہم سے پیچھے رہ گئے ، آپ ہمارے پاس پہنچے تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا ، ہم ( میں سے کچھ لوگ) اپنے پاؤں پر ( جلدی میں ) ہاتھ پھیرنے لگے تو آپ نے بلند آواز سے فرمایا:’’(ان) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے ۔ ‘‘