صحيح مسلم - حدیث 5710

كِتَابُ السَّلَامِ بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ صحيح و حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ يَدْعُو لَهُ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ فَدَعَا لَهُ وَقَالَ وَأَنْتَ الشَّافِي

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 5710

کتاب: سلامتی اور صحت کابیان مریض پر دم کرنا مستحب ہے ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا:ہمیں جریر نے منصور سے حدیث بیان کی،انھوں نے ابو ضحیٰ سے،انھوں نے مسروق سے،انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لاتے تواس کے لئے دعا فرماتے ہوئے کہتے:"تکلیف دور کردے،اے سب انسانوں کے پالنے والے! اور شفا عطا کرتو ہی شفا دینے والا ہے ،شفا عطا کر،تیری شفا کے سوا(کہیں) کوئی شفا نہیں،ایسی شفا سے جو بیماری کو (باقی) نہ چھوڑے۔"ابوبکر(ابن ابی شیبہ) کی روایت میں ہے:آپ اس کے لئے دعا فرماتے اور کہتے:"اور تو ہی شفا دینے والا ہے۔"