كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا صحيح حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَبُو الطَّاهِرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالُوا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَالِمٍ، مَوْلَى شَدَّادٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَتَوَضَّأَ عِنْدَهَا فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ»
کتاب: پاکی کا بیان (وضو میں ) دونوں پاؤں مکمل طور پر دھونا واجب ہے مخرمہ بن بکیر نے اپنےوالد سے ، انہوں نے شداد کے آزاد کردہ غلام سالم سے روایت کی ، انہوں نے کہا: جس دن حضرت سعد بن ابی وقاص فوت ہوئے میں رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ عبد الرحمن بن ابی بکر ان کے ہاں آئے اور ان کے پاس وضو کیا تو انہو ں نےفرمایا:عبدالرحمن ! خوب اچھی طرح وضو کرو کیونکہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا: ’’(وضوکے پانی سےتر نہ ہونے والی ) ایڑیوں کےلیے آگ کا عذاب ہے ۔ ‘‘