كِتَابُ السَّلَامِ بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ وَعَلَيْكُمْ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمْ السَّامُ وَالذَّامُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَا تَكُونِي فَاحِشَةً فَقَالَتْ مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا فَقَالَ أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ
کتاب: سلامتی اور صحت کابیان اہل کتاب کو سلام کرنے میں ابتدا کی ممانعت اور ان کے سلام کا جواب کیسے دیا جا ئے ابو معاویہ نے اعمش سے ،انھوں نے مسلم سے انھوں نے مسروق سے،انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہود میں سے کچھ لو گ آئے ،انھوں نے آکر کہا : (السام علیک یا أبا القاسم) (ابو القاسم !آپ پر موت ہو) کہا آپ نے فر ما یا :" وَ عَلَیکُم (تم لوگوں پر ہو!)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا :" بلکہ تم پر موت بھی ہو ذلت بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :" عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !زبان بری نہ کرو۔انھوں(عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا )نے کہا : آپ نے نہیں سنا، انھوں نے کیا کہا تھا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :" انھوں نے جو کہا تھا میں نے ان کو لوٹا دیا ،میں نے کہا:تم پر ہو ۔"