كِتَابُ الْآدَابِ بَابُ جَوَازِ قَوْلِهِ لِغَيْرِ ابْنِهِ: يَا بُنَيَّ وَاسْتِحْبَابِهِ لِلْمُلَاطَفَةِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُغِيرَةِ أَيْ بُنَيَّ إِلَّا فِي حَدِيثِ يَزِيدَ وَحْدَهُ
کتاب: معاشرتی آداب کا بیان کسی اور کے بیٹے کو بیٹا کہنا جائز ہے اور (اگر) شفقت کے اظہار کے لئے ہوتو مستحب ہے وکیع،ہشیم،جریر اور ابو اسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی،ان میں سے تنہا یزید کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے"اے میرے بیٹے" کے الفاظ ہیں اور کسی کی حدیث میں نہیں ہیں۔