كِتَابُ الْآدَابِ باب جوازتكنية من لم يولد له.وكنية الصغير صحيح حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ كَانَ فَطِيمًا قَالَ فَكَانَ إِذَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ قَالَ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ قَالَ فَكَانَ يَلْعَبُ بِهِ
کتاب: معاشرتی آداب کا بیان جس کا بچہ نہ ہوا ہو اس کےلیے کنیت رکھنے کا جواز اور چھوٹے بچے کی کنیت ابوتیاح نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں سے بڑھ کر خوش ا خلاق تھے،میرا ایک بھائی تھا جسے ابو عمیر کہا جاتا تھا۔(ابوالتیاح نے) کہا:میرا خیال ہے(انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا تھا:اس کا دودھ چھڑایا جاچکا تھا،کہا:جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور اسے دیکھتے تو فرماتے:ابو عمیر!نغیر نے کیا کیا"وہ بچہ اس (پرندے)سے کھیلا کرتا تھا۔