كِتَابُ الْآدَابِ بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ....... صحيح حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَاءٍ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حَنَّكَهُ بِالتَّمْرَةِ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ
کتاب: معاشرتی آداب کا بیان نومولود کو ولادت کے وقت گھٹنی دلوانا اوراسے گھٹنی دلوانے کے لئے کسی نیک انسان کے پاس اٹھا کر لے جانا مستحب ہے،پیدائش کے دن اس کا نام رکھنا جائز ہے ،اس کانام عبداللہ،ابراہیم یا جملہ انبیائے کرام علیہ السلام کے ناموں.... ابو اسامہ نے ہشام سے،انھوں نے ا پنے والد سے،انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ مکہ میں حاملہ ہوئیں،حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پیٹ میں تھے،حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہاکہ جب میں(مکہ سے) نکلی تو میں پورے دنوں سے تھی،پھر میں مدینہ آئی اورقباء میں ٹھہری اور قباء میں نے اسے(عبداللہ) کو جنم دیا،پھر میں ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے اسے اپنی گود میں لے لیا،پھر آپ نے کھجور منگوائی،اسے چبایا ۔پھر اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال دیا ،پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کالعاب دہن تھا،پھر آپ نے(چبائی ہوئی) کھجور کی گھٹی اس کے تالو کولگائی،پھر میں کے لئے دعا کی ،برکت مانگی،(ہجرت مدینہ کے بعد) یہ پہلا بچہ تھا جو اسلام میں پیدا ہوا۔