كِتَابُ الْآدَابِ بَابُ اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ، وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا صحيح حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ اسْمِي بَرَّةَ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ قَالَتْ وَدَخَلَتْ عَلَيْهِ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ وَاسْمُهَا بَرَّةُ فَسَمَّاهَا زَيْنَبَ
کتاب: معاشرتی آداب کا بیان تین برے ناموں کو اچھے ناموں سے بدلنا اوربرہ( ہر طرح سے نیک) کا نام بدل کر زینب اور جویریہ جیسا نام رکھ لینا مستحب ہے ولید بن کثیر نے کہا:مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے حدیث بیان کی ،کہا:مجھے حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا ،کہا: میرا نام برہ تھا،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام زینب رکھ دیا۔ انھوں نے کہا: جب زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے حبالہ عقد میں داخل ہوئیں تو ان کا نام بھی برہ تھا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بھی زینب رکھا۔