صحيح مسلم - حدیث 5601

كِتَابُ الْآدَابِ بَابُ كَرَاهَةِ التَّسْمِيَةِ بِالْأَسْمَاءِ الْقَبِيحَةِ وَبِنَافِعٍ وَنَحْوِهِ صحيح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ وَلَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ فَلَا يَكُونُ فَيَقُولُ لَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ فَلَا تَزِيدُنَّ عَلَيَّ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 5601

کتاب: معاشرتی آداب کا بیان برے نام اور نافع(نفع پہنچانے والا) جیسے نام رکھنا مکرو ہے زہیر نے کہا: ہمیں منصور نے ہلال بن یساف سے ،انھوں نے ربیع بن عمیلہ سے ،انھوں نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:"اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چارکلمات ہیں:""اور ،تم(ذکر کرتے ہوئے) ان میں سے جس کلمے کو پہلے کہو،کوئی حرج نہیں،اور تم اپنے لڑکے کا نام یسار،رباح،نجیح،(کامیاب کرتے ہوئے) ان میں سے جس کلمے کو پہلے کہو،کوئی حرج نہیں ہے،اور تم اپنے لڑکے کا نام یسار،رباح،نجیح(کامیاب ہونے والا) اور افلح نہ رکھنا،کیونکہ تم پوچھو گے:فلاں(مثلا:افلح) یہاں ہے،وہ نہیں ہوگا تو(جواب دینے والا) کہے گا:(یہاں کوئی) افلح(زیادہ فلاح پانے والا) نہیں ہے۔" (سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:) یہ چار ہی (نام) ہیں،میری ذمہ داری پر اور کوئی نام نہ بڑھانا۔