كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ
کتاب: لباس اور زینت کے احکام مصنوعی بال لگانے ،لگوانے والی گودنے ،گدوانے والی اور ابروؤں کے بال نوچنے نچوانے والی ،دانتوں کو کشادہ کروانے والی اور اللہ تعا لیٰ کی خلقت کو تبدیل کرنے والی کا (ایسا ہر )عمل حرام ہے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ابن شہاب سے،انھوں نے حمید بن عبدالرحمان بن عوف سے روایت کی،انھوں نے حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے،جس سال انھوں نے حج کیا،سنا،وہ منبر پر تھے،انھوں نے بالوں کی کٹی ہوئی ایک لٹ پکڑی جو ایک محافظ کے ہاتھ میں تھی(جسے عورتیں بالوں سے جوڑتی تھیں) اور کہہ رہے تھے:مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے،آپ ان(لٹوں وغیرہ) سے منع فرماتے تھے اورفرمارہے تھے:"جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے ان کو اپنا نا شروع کیا تو وہ ہلاک ہوگئے۔"(جب جھوٹ کی بنیادوں پر تعمیر عیش وتنعم کا یہ مرحلہ آگیا تو زوال بھی آگیا۔)