كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابٌ فِي وُضُوءِ النَّبِيِّ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صحيح حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ: مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَلَمْ يَقُلْ: مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ
کتاب: پاکی کا بیان نبی کریم ﷺ کاوضو مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ کی سند سے یہی روایت بیان کی اور کہا:انہوں نےتین بار کلی کی اور ناک میں جھاڑی ۔ انہوں نے ’’ایک ہی چلو سے ‘‘ کےالفاظ ذکر نہیں کیے اور ’’دونوں ہاتھ آگے سے (پیچھے کو) لائے اور پیچھےسے (آگے کو ) لائے‘‘ کے بعد یہ الفاظ بڑھائے: انہوں نے سر کے اگلے حصے سے ( مسح)شروع کیا اور دونوں ہاتھ گدی تک لائے،پھر ان کوواپس کر کے اسی جگہ تک لائے جہاں سے شروع کیا تھا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔