كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ صحيح حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتْ ابْنَةً لَهَا فَاشْتَكَتْ فَتَسَاقَطَ شَعْرُهَا فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا أَفَأَصِلُ شَعَرَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُعِنَ الْوَاصِلَاتُ
کتاب: لباس اور زینت کے احکام مصنوعی بال لگانے ،لگوانے والی گودنے ،گدوانے والی اور ابروؤں کے بال نوچنے نچوانے والی ،دانتوں کو کشادہ کروانے والی اور اللہ تعا لیٰ کی خلقت کو تبدیل کرنے والی کا (ایسا ہر )عمل حرام ہے زید بن حباب نے ابراہیم بن نافع سے روایت کی ،کہا:مجھے حسن بن مسلم بن یناق نے صفیہ بنت شیبہ سے خبر دی،انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک عورت نے ا پنی بیٹی کی شادی کی ،وہ بیمار ہوگئی تو اس کے بال جھڑ گئے،وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اورعرض کی کہ اس کا خاوند اس کی رخصتی چاہتاہے ،کیا میں اس کے بالوں میں جوڑ لگادوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔"