كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ بَابُ جَوَازِ وَسْمِ الْحَيَوَانِ غَيْرِ الْآدَمِيِّ فِي غَيْرِ الْوَجْهِ، وَنَدْبِهِ فِي نَعَمِ الزَّكَاةِ وَالْجِزْيَةِ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ أَنَّ أُمَّهُ حِينَ وَلَدَتْ انْطَلَقُوا بِالصَّبِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ قَالَ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ فِي آذَانِهَا
کتاب: لباس اور زینت کے احکام انسان کے علاوہ حیوانوں کو منہ کے علاوہ جس کے کسی اور حصے پر نشانی ثبت کرنے کا جواز زکاۃ اور جزیے میں ملنے والے جانوروں کو نشانی لگا نا (تا کہ وہ گم نہ ہو جائیں)مستحب ہے محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا، کہ جب ان کی والد کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ لوگ اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تا کہ آپ اسے گھٹی دیں اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے ایک باڑے میں تھے اور بکریوں کو نشان لگا رہے تھے شعبہ نے کہا : میرا غالب گمان یہ ہے کہ انھوں نے (حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ )نے کہا تھا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) ان (بکریوں)کے کا نوں پر نشان لگا رہے تھے ۔(اونٹوں کو لگانے کے بعد بکریوں کو بھی وہیں لا کر نشان لگا رہے تھے۔)