كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ بَاب تَحْرِيمِ تَصْوِيرِ صُورَةِ الْحَيَوَانِ وَتَحْرِيمِ اتِّخَاذِ مَا فِيهِ صُورَةٌ غَيْرُ مُمْتَهَنَةٍ بِالْفَرْشِ وَنَحْوِهِ وَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ عَلَيْهِمْ السَّلَام لَا يَدْخُلُونَ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ صحيح وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ، وَابْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَخِي الْمَاجِشُونِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَبَعْضُهُمْ أَتَمُّ حَدِيثًا لَهُ مِنْ بَعْضٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَخِي الْمَاجِشُونِ قَالَتْ: فَأَخَذْتُهُ فَجَعَلْتُهُ مِرْفَقَتَيْنِ فَكَانَ يَرْتَفِقُ بِهِمَا فِي الْبَيْتِ
کتاب: لباس اور زینت کے احکام جاندار کی تصویر بنا نے اور جوفرش پر روندی نہ جا رہی ہو ں ان تصویروں کو استعمال کرنے کی ممانعت نیز یہ کہ جس گھر میں تصویر یا کتاہوا ہو اس میں ملا ئیکہ علیہ السلام دا خل نہیں ہو تے قتیبہ اور ابن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی،اسحاق بن ابراہیم نے کہا:ہمیں ثقفی نے خبر دی،کہا:ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی،عبدالوارث بن عبدالصمد نےکہا:ہمیں میرے والد نے میرے دادا کے واسطے سے ایوب سے حدیث بیان کی،ہارون بن سعید ایلی نے کہا:ہمیں ابن وہب نے حدیث بیان کی،کہا:مجھے اسامہ بن زید نے خبر دی،ابو بکر اسحاق نے کہا:ہمیں ابو سلمہ خزاعی نے حدیث بیا ن کی ،کہا:ہمیں ماجثون کے بھتیجے عبدالعزیز نے عبیداللہ بن عمر سے خبر دی،ان سب(لیث بن سعد،ایوب،اسامہ بن زید اور عبیداللہ بن عمر) نے نافع سے،انھوں نے قاسم سے،انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ حدیث روایت کی،ان میں سے بعض کی حدیث بعض کی نسبت زیادہ مکمل ہے اور(ابو سلمہ خزاعی نے) ابن ماجثون کے بھتیجے سے روایت کردہ حدیث میں یہ اضافہ کیا:انھوں(حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے فرمایا:میں نے اس گدے کو لے کر اس کے دو تکیے بنا لیے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ان کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے۔