صحيح مسلم - حدیث 5511

كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ بَاب تَحْرِيمِ تَصْوِيرِ صُورَةِ الْحَيَوَانِ وَتَحْرِيمِ اتِّخَاذِ مَا فِيهِ صُورَةٌ غَيْرُ مُمْتَهَنَةٍ بِالْفَرْشِ وَنَحْوِهِ وَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ عَلَيْهِمْ السَّلَام لَا يَدْخُلُونَ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ صحيح حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي سَاعَةٍ يَأْتِيهِ فِيهَا فَجَاءَتْ تِلْكَ السَّاعَةُ وَلَمْ يَأْتِهِ وَفِي يَدِهِ عَصًا فَأَلْقَاهَا مِنْ يَدِهِ وَقَالَ مَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَا رُسُلُهُ ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَتَى دَخَلَ هَذَا الْكَلْبُ هَاهُنَا فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ فَجَاءَ جِبْرِيلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتَنِي فَجَلَسْتُ لَكَ فَلَمْ تَأْتِ فَقَالَ مَنَعَنِي الْكَلْبُ الَّذِي كَانَ فِي بَيْتِكَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 5511

کتاب: لباس اور زینت کے احکام جاندار کی تصویر بنا نے اور جوفرش پر روندی نہ جا رہی ہو ں ان تصویروں کو استعمال کرنے کی ممانعت نیز یہ کہ جس گھر میں تصویر یا کتاہوا ہو اس میں ملا ئیکہ علیہ السلام دا خل نہیں ہو تے عبد العزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے،انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہا جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ ایک خاص گھڑی میں ان کے پاس آئیں گے،چنانچہ وہ گھڑی آگئی لیکن جبرئیل علیہ السلام نہ آئے ۔(اس وقت ) آپ کے دست مبارک میں ایک عصاتھا ۔آپ نے اسے اپنے ہا تھا سے(نیچے پھینکا اور فرمایا :"نہ اللہ تعا لیٰ اپنے وعدے کی خلا ف ورزی کرتا ہے نہ رسول (خلا ف ورزی کرتے ہیں ۔) " جبریل امین علیہ السلام بھی وحی لے کر انبیا ء علیہ السلام کی طرف آنے والے اللہ کے رسول تھے)پھر آپ نے دھیان دیا تو ایک چار پا ئی کے نیچے کتے " کا ایک پلا تھا ۔آپ نے فرما یا :" عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! یہ کتا یہاں کب گھسا ؟"انھوں نے کہا : واللہ !مجھے بالکل پتہ نہیں چلا ۔آپ نے حکم دیا تو اس (پلے ) کو نکال دیا گیا ،پھر جبریل علیہ السلام تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما یا :" آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا میں آپ کی خاطر بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے ۔"انھوں نے کہا آپ کے گھر میں جو کتا تھا ، مجھے اس نے روک لیا ہم ایسے گھر میں دا خخل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو۔نہ (اس میں جہاں تصویر ہو۔