كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ بَابٌ فِي اتِّخَاذِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ صحيح حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَالنَّجَاشِيِّ فَقِيلَ إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ فَصَاغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا حَلْقَتُهُ فِضَّةً وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ
کتاب: لباس اور زینت کے احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عجم(کے حکمرانوں) کی طرف خط لکھنے کاارادہ فرمایا تو آپ نے انگوٹھی بنوائی خالد بن قیس نے قتادہ سے،انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ،قیصر اور نجاشی کی طرف خط لکھنے کاارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کی گئی کہ وہ لوگ صرف اس خط کو قبول کرتے ہیں جس پر مہر لگی ہو،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر ڈھلوائی،وہ چاندی کی انگوٹھی تھی اور اس میں"محمد رسول اللہ" نقش کرایا۔