كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ صحيح حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: تَوَضَّأَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، يَوْمًا وُضُوءًا حَسَنًا ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ: «مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، غُفِرَ لَهُ مَا خَلَا مِنْ ذَنْبِهِ»
کتاب: پاکی کا بیان وضو اور اس کے بعد نماز پڑھنے کی فضیلت مخرمہ کےوالد بکیر ( بن عبد اللہ ) نے حمران (مولیٰ عثمان ) سے روایت کی کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان نے بہت اچھی طرح وضو کیا ، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کودیکھا، آپ نے بہت اچھی طرح وضوکیا، پھر فرمایا:’’جس نے اس طرح وضو کیا ،پھر مسجدکی طرف نکلا،نماز ہی نے اسے (جانے کے لیے) کھڑا کیا تو اس کے گزرے ہوئے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔‘‘