صحيح مسلم - حدیث 5464

كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُسْتَخْلَفُ عَلَى الْمَدِينَةِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 5464

کتاب: لباس اور زینت کے احکام تکبر کی بنا پر کپڑا گھسیٹ کر چلنے کی ممانعت اور یہ وضا حت کہ کپڑا لٹکا نے کی جا ئز حد کیا ہے اور مستحب کیا ہے؟ محمد بن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ۔اور ابن مثنیٰ نے کہا : ہمیں ابن ابی عدی نے حدیث سنائی ،ان دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ،ابن جعفر کی روایت میں ہے :مروان ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی غیر حاضری میں مدینہ کا (قائم مقام ) حاکم بنا یا کرتا تھا ۔اور ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو (حاکم کی غیرحاضر ی میں ) مدینہ کا حاکم بنا یا جا تا تھا ۔