صحيح مسلم - حدیث 5462

كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ صحيح حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِزَارِي اسْتِرْخَاءٌ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ارْفَعْ إِزَارَكَ فَرَفَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ زِدْ فَزِدْتُ فَمَا زِلْتُ أَتَحَرَّاهَا بَعْدُ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ إِلَى أَيْنَ فَقَالَ أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 5462

کتاب: لباس اور زینت کے احکام تکبر کی بنا پر کپڑا گھسیٹ کر چلنے کی ممانعت اور یہ وضا حت کہ کپڑا لٹکا نے کی جا ئز حد کیا ہے اور مستحب کیا ہے؟ عبد اللہ بن واقد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزرا میری کمر کی چادر کسی حد تک لٹک رہی تھی توآپ نے فرما یا "عبد اللہ ! اپنی چادر اوپر کرلو۔ "میں نے اپنی چادر اوپر کرلی۔ آپ نے فر ما یا :" اور زیادہ کر لو "میں نے ااورزیادہ اوپر کی، پھر میں اس کواوپر کرتا رہا حتی کہ بعض لو گوں نے عرض کی کہاں تک (اوپر کرے ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفر ما یا :" پنڈلیوں کے آدھے حصوں تک ۔"