كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ صحيح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ كُلُّهُمْ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي يُونُسَ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْحَسَنِ وَفِي رِوَايَتِهِمْ جَمِيعًا مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ وَلَمْ يَقُولُوا ثَوْبَهُ
کتاب: لباس اور زینت کے احکام تکبر کی بنا پر کپڑا گھسیٹ کر چلنے کی ممانعت اور یہ وضا حت کہ کپڑا لٹکا نے کی جا ئز حد کیا ہے اور مستحب کیا ہے؟ عبد الملک بن ابی سلیمان ابو یو نس اور ابرا ہیم بن نافع ان سب نے مسلم بن یناق سے، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی مگر ابو یونس کی حدیث میں ہے: ابو الحسن مسلم روایت ہے اور ان سب کی روایت میں ہے ،"جس نے اپنی ازارگھسیٹی "انھوں نے"اپنا کپڑا "نہیں کہا ۔