صحيح مسلم - حدیث 546

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، قَالَ: كُنْتُ أَضَعُ لِعُثْمَانَ طَهُورَهُ فَمَا أَتَى عَلَيْهِ يَوْمٌ إِلَّا وَهُوَ يُفِيضُ عَلَيْهِ نُطْفَةً وَقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ انْصِرَافِنَا مِنْ صَلَاتِنَا هَذِهِ - قَالَ مِسْعَرٌ: أُرَاهَا الْعَصْرَ - فَقَالَ: «مَا أَدْرِي أُحَدِّثُكُمْ بِشَيْءٍ أَوْ أَسْكُتُ؟» فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ كَانَ خَيْرًا فَحَدِّثْنَا، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ فَاللهُ ورسولهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ، فَيُتِمُّ الطُّهُورَ الَّذِي كَتَبَ اللهُ عَلَيْهِ، فَيُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَاتٍ لِمَا بَيْنَهَا»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 546

کتاب: پاکی کا بیان وضو اور اس کے بعد نماز پڑھنے کی فضیلت مسعر نےابو صخرہ جامع بن شداد سے روایت کی ، انہو ں نے کہا:میں نےحمران بن ابان سے سنا، انہوں نےکہا: میں عثمان ﷜ کے غسل اور وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ آتا کہ وہ تھوڑا سا (پانی) اپنے اوپر نہ بہا لیتے ( ہلکا سا غسل نہ کر لیتے ، ایک دن) عثمان ﷜ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس نماز سے (مسعر کا قول ہے : میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز مراد ہے ) سلام پھیرنے کے بعد ہم سے گفتگو فرمائی ، آپ نے فرمایا:’’میں نہیں جانتا کہ ایک بات تم سے کہہ دوں یا خاموش رہوں؟‘‘ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول!اگر بھلائی کی بات ہے تو ہمیں بتا دیجیے، اگر کچھ اور ہے تو اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ رسو ل اللہﷺنے فرمایا:’’جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے اس کو مکمل طریقے سے کرتا ہے پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو یقیناً یہ نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان کے اوقات میں سرزد ہوئے ۔‘‘