كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ لَا أَدْرِي مَا هِيَ؟ إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ وَمَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً» وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ أَتَيْتُ عُثْمَانَ فَتَوَضَّأَ
کتاب: پاکی کا بیان وضو اور اس کے بعد نماز پڑھنے کی فضیلت ابن عبدہ کی روایت میں ہے :میں عثمان کے پاس آیا تو انہوں نے وضو کیا ۔ قتیبہ بن سعید اور احمد بن عبدہ ضبی نے کہا:ہمیں عبد العزیز دراوردی نے زید بن اسلم سےحدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عثمانکے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت کی ، انہوں نے کہا: میں عثمان بن عفان کے پاس وضو کا پانی لایا تو انہوں نے وضو کیا، پھر کہا:کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے احادیث بیان کرتے ہیں جن کی حقیقت میں نہیں جانتامگر میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا، آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، پھر فرمایا:’’جس نے اس طریقے سے وضو کیا اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو گئے اور اس کی نماز اور مسجد کی طرف جانازائد (ثواب کا باعث) ہو گا۔‘‘