كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ: عَبْدٌ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ فَدَعَا بِطَهُورٍ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُولُ مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ»
کتاب: پاکی کا بیان وضو اور اس کے بعد نماز پڑھنے کی فضیلت اسحاق بن سعید نے عمرو بن سعید بن عاص نے اپنے والد(سعید بن عمرو)سے اور انہوں نے اپنے والد (عمرو بن سعید) سے روایت کی ، انہو ں نے کہا: میں عثمان کے پاس تھا، انہوں نے وضو کاپانی منگایااور کہا:میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:’’کوئی مسلمان نہیں جس کی فرض نماز کا وقت ہو جائے ، پھر وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے ،اچھی طرح خشوع سے اسے ادا کرے اور احسن انداز سے رکوع کرے ، مگر وہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گی جب تک وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا اور یہ بات ہمیشہ کے لیے کی ۔‘‘