كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ باب تحریم لبس الحریروغیر ذالک للرجال صحيح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ لِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ فِي الْإِسْتَبْرَقِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَالَ: «إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًا»
کتاب: لباس اور زینت کے احکام مردوں کے لیے ریشم وغیرہ (کی مختلف اقسام )پہننا حرا م ہے ۔ یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث بیان کی،کہا:سالم بن عبداللہ نے مجھ سے استبرق کے متعلق دریافت کیا،کہا:میں نے کہا:وہ دیباج جو موٹا اور سخت ہو۔انھوں نے کہا:میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص(کے کندھے) پر استبرق کا ایک حلہ دیکھا ،وہ اس(حلے) کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے،پھر انھوں نے ان سب کی حدیث کے مانند بیان کیا،البتہ اس میں یہ کہا:تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں نےیہ جبہ اس لئے تمھارے پاس بھیجا کہ تم اس کے ذریعے سے(اسے بیچ کر) کچھ مال حاصل کرلو۔"