كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ فَضِيلَةِ الْمُوَاسَاةِ فِي الطَّعَامِ الْقَلِيلِ، وَأَنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَنَحْوِ ذَلِكَ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ طَعَامُ الرَّجُلِ يَكْفِي رَجُلَيْنِ وَطَعَامُ رَجُلَيْنِ يَكْفِي أَرْبَعَةً وَطَعَامُ أَرْبَعَةٍ يَكْفِي ثَمَانِيَةً
کتاب: مشروبات کا بیان کم کھانے میں بھی مہمان نوازی کرنا،دو آدمیوں کا کھانا تین کو کافی ہوجاتاہے۔اور اسی طرح (تین کا چار کو اور آگے) جریر نے اعمش سے،انھوں نے ابو سفیان سے،انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ،انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔اور دو آدمیوں کا کھانا چا ر کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔اور چار کا کھانا آٹھ کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔"