صحيح مسلم - حدیث 5361

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ صحيح و حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُضِيفَهُ فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مَا يُضِيفُهُ فَقَالَ أَلَا رَجُلٌ يُضِيفُ هَذَا رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَذَكَرَ فِيهِ نُزُولَ الْآيَةِ كَمَا ذَكَرَهُ وَكِيعٌ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 5361

کتاب: مشروبات کا بیان مہمان کی عزت افزائی اور اسے اپنی ذات پر ترجیح دینا ابن فضیل نے اپنے والد سے،انھوں نے ابو حازم سے انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا:ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے مہمان بنالیں،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی میزبانی کےلئے کچھ بھی نہ تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"کوئی ایسا شخص ہے جواس کو مہمان بنائے؟اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے!"انصار میں سے ایک شخص کھڑے ہوگئے،انھیں ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاجاتا تھا،وہ اس (مہمان) کواپنے گھر لے گئے،اس کے بعد جریر کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی،انھوں نے بھی وکیع کی طرح آیت نازل ہونے کا ذکر کیا۔