صحيح مسلم - حدیث 5356

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ إِبَاحَةِ أَكْلِ الثُّومِ، وَأَنَّهُ يَنْبَغِي لِمَنْ أَرَادَ خِطَابَ الْكِبَارِ تَرْكُهُ، وَكَذَا مَا فِي مَعْنَاهُ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَيَّ وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَيَّ يَوْمًا بِفَضْلَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا لِأَنَّ فِيهَا ثُومًا فَسَأَلْتُهُ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ قَالَ فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 5356

کتاب: مشروبات کا بیان لہسن کھانے کا جواز اور جو بڑوں سے بات کرنا چاہے وہ یہ اور اس جیسی (بو والی )چیز نہ کھا ئے ۔ محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ،انھوں نے جا بر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا :جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کو ئی کھا نا لا یا جا تا تو آپ اس میں سے تناول فرماتے اور جو بچ جا تا اسے میرے پاس بھیج دیتے ایک دن آپ نے میرے پاس بچا ہوا کھا نا بھیجا جس میں سے آپ نے خود کچھ نہیں کھا یا تھا کیونکہ اس میں (کچا)لہسن تھا میں نے آپ سے پو چھا : کیا یہ حرام ہے ؟ آپ نے فرما یا :"نہیں لیکن میں اس کی بد بو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں ۔"میں نے عرض کی: جو آپ کو ناپسند ہے وہ مجھے بھی ناپسند ہے۔