صحيح مسلم - حدیث 5332

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ اسْتِحْبَابِ تَوَاضُعِ الْآكِلِ، وَصِفَةِ قُعُودِهِ صحيح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُهُ وَهُوَ مُحْتَفِزٌ يَأْكُلُ مِنْهُ أَكْلًا ذَرِيعًا وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ أَكْلًا حَثِيثًا

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 5332

کتاب: مشروبات کا بیان کھانے والے کا تواضع اختیار کرنا مستحب ہے اور اس کے بیٹھنے کا طریقہ زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی ،انھوں نے مصعب بن سلیم سے انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی: کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں پیش کی گئیں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھےہو ئے ان کو تقسیم فرما نے لگے جیسے آپ ابھی اٹھنےلگے ہوں (بیٹھنےکی وہی کیفیت جو پچھلی حدیث میں بیان ہو ئی دوسرے لفظوں میں بتا ئی گئی ہے)اور آپ اس میں سے جلدی جلدی چند دانے کھارہے تھے۔زہیر کی۔ روایت میں ذَریعاً کے بجائے حَثِیثًا کا لفظ ہے یعنی بغیر کسی اہتمام کے جلدی جلدی۔