كِتَابُ الْإِيمَانِ بابُ قَوْلِهِ يَقُولُ اللهُ لِآدَمَ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسَعَةٍ وَتِسْعِينَ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا: مَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ وَلَمْ يَذْكُرَا أَوِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ
کتاب: ایمان کا بیان رسول اللہ ﷺ کا قول کہ اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا دوزخ میں بھیجنے کے لیے ہر ہزار(1000) میں سے نو سو ننانوے (999) الگ کر دو (جریر کے بجائے ) اعمش کے دو شاگردوں وکیع اور ابو معاویہ نےاسی سند کے ساتھ روایت کی، لیکن دونوں کے الفاظ ہیں :’’اس دن لوگوں میں تم ( اسےسے زیادہ) نہیں ہو گے مگر ( ایسے) جس طرح ایک سفید بال جو سیاہ بیل پر ہوتا ہے یا سیاہ بال جو سفید بیل پر ہوتا ہے ۔ ‘‘ ان دونوں نے گدھے کے اگلے پاؤں کے نشان کا تذکرہ نہیں کیا ۔