صحيح مسلم - حدیث 5327

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمَرَقِ، وَاسْتِحْبَابِ أَكْلِ الْيَقْطِينِ، وَإِيثَارِ أَهْلِ الْمَائِدَةِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا وَإِنْ كَانُوا ضِيفَانًا إِذَا لَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ صَاحِبُ الطَّعَامِ صحيح و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ قَالَ ثَابِتٌ فَسَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ فَمَا صُنِعَ لِي طَعَامٌ بَعْدُ أَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُصْنَعَ فِيهِ دُبَّاءٌ إِلَّا صُنِعَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 5327

کتاب: مشروبات کا بیان شوربہ کھانا جا ئز ہے کدو کھا نا مستحب ہے دسترخوان پر بیٹھےلو گ چاہےمہمان ہوں ایک دوسرے کے لیے ایثار کریں بشرطیکہ کھا نے (پر بلانے ) والااسے ناپسند نہ کرے معمر نے ثابت بنا نی اور عاصم احول سے، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے جو درزی تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی اور یہ اضافہ کیا کہ ثابت نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا،کہہ رہے تھے :اس کے بعد جب بھی میرے لیے کھانا بنتا ہے اور میں ایسا کرسکتا ہوں کہ اس میں کدو ڈالا جا ئے تو ڈالا جا تا ہے۔