كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ صحيح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فِي طَعَامِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ فِيهِ فَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى الْبَابِ حَتَّى أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ شَيْءٌ يَسِيرٌ قَالَ هَلُمَّهُ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَجْعَلُ فِيهِ الْبَرَكَةَ
کتاب: مشروبات کا بیان اگر میزبان کی رضا مندی پر اعتماد ہو اس بات کا پورا یقین ہو تو کسی اور کو اپنے ساتھ اس (بلانے والے)کے گھر لے جاناجائز ہے ،اور کھانے پر اکھٹا ہونامستحب ہے یحییٰ (مازنی ) نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کھا نے کا یہی قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالےسے بیان کیا اور اس میں کہا : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازے پر کھڑے ہو گئے۔یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا ئے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !صرف تھوڑا ساکھانا تھا آپ نے فرما یا :"لے آؤ اللہ تعا لیٰ عنقریب اس میں برکت ڈال دے گا ۔