صحيح مسلم - حدیث 532

كِتَابُ الْإِيمَانِ بابُ قَوْلِهِ يَقُولُ اللهُ لِآدَمَ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسَعَةٍ وَتِسْعِينَ صحيح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا آدَمُ فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، قَالَ يَقُولُ: أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ قَالَ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ قَالَ: فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِيدٌ " قَالَ: فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: «أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا، وَمِنْكُمْ رَجُلٌ» قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَحَمِدْنَا اللهَ وَكَبَّرْنَا. ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَحَمِدْنَا اللهَ وَكَبَّرْنَا. ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِنَّ مَثَلَكُمْ فِي الْأُمَمِ كَمَثَلِ الشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 532

کتاب: ایمان کا بیان رسول اللہ ﷺ کا قول کہ اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا دوزخ میں بھیجنے کے لیے ہر ہزار(1000) میں سے نو سو ننانوے (999) الگ کر دو جریر نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید﷜ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اللہ عز وجل فرمائے گا: اے آدم ! وہ کہیں گے: میں حاضر ہوں ( میرے رب!) قسمت کی خوبی (تیری عطا ہے) اور ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے ! کہا: اللہ فرمائے گا: دوزخیوں کی جماعت کو الگ کر دو۔ آدم ﷤عرض کریں گے: دوزخیوں کی جماعت (تعداد میں ) کیا ہے ؟ اللہ فرمائے گا: ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے ۔یہ وقت ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے۔ ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش کی طرح دیکھو گے، حالانکہ وہ (نشےمیں ) مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہو گا۔ ابو سعید﷜ نے کہا کہ یہ بات ان (صحابہ کرام﷢) پر حد درجہ گراں گزری۔ انہوں نے پوچھا ‎: اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے وہ ( ایک) آدمی کون ہے ؟ تو آپ نے فرمایا:’’خوش ہو جاؤ، ہزار یا جوج ماجوج میں سے ہیں اور ایک تم میں سے ہے ، ( ابو سعید﷜ نے) کہا: پھر آپ نے فرمایا:’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھائی (حصہ) ہو گے۔‘‘ہم نےاللہ تعالیٰ کی حمد کی او رتکبیر کہی ( اللہ اکبرکہا۔) ، پھر آپ نے فرمایا:’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی (حصہ) ہو گے۔‘‘ ہم نے اللہ کی حمد کی اور تکبیر کہی، پھر فرمایا:’’ اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا آدھا حصہ ہو گے ۔ (دوسری) امتوں کے مقابلے میں تمہاری مثال اس سفید بال کی سی ہے جو سیاہ بیل کی جلدپر ہوتا ہے یا اس چھوٹے سے نشان کی سی ہے جو گدھے کے اگلے پاؤں پر ہوتا ہے ۔ ‘‘