كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ صحيح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ يَعْنِي المُغِيرَةَ بْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ بَيْنَا أَبُو بَكْرٍ قَاعِدٌ وَعُمَرُ مَعَهُ إِذْ أَتَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَقْعَدَكُمَا هَاهُنَا قَالَا أَخْرَجَنَا الْجُوعُ مِنْ بُيُوتِنَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ خَلَفِ بْنِ خَلِيفَةَ
کتاب: مشروبات کا بیان اگر میزبان کی رضا مندی پر اعتماد ہو اس بات کا پورا یقین ہو تو کسی اور کو اپنے ساتھ اس (بلانے والے)کے گھر لے جاناجائز ہے ،اور کھانے پر اکھٹا ہونامستحب ہے عبدالواحد بن زیاد نے کہا:ہمیں یزید نے حدیث بیان کی،کہا:ہمیں ابوحازم نے حدیث سنائی،کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا،وہ کہہ رہے تھے:ایک روزحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہوئے تھے،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ تھے۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم دونوں کو کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟"دونوں نے کہا:قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کےساتھ بھیجا ہے! ہمیں بھوک نے ا پنے گھروں سےنکالا ہے۔پھر خلف بن خلیفہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔