كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ مَا يَفْعَلُ الضَّيْفُ إِذَا تَبِعَهُ غَيْرُ مَنْ دَعَاهُ صَاحِبُ الطَّعَامِ، وَاسْتِحْبَابِ إِذْنِ صَاحِبِ الطَّعَامِ لِلتَّابِعِ صحيح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ يَدْعُوهُ فَقَالَ وَهَذِهِ لِعَائِشَةَ فَقَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا فَعَادَ يَدْعُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ لَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ نَعَمْ فِي الثَّالِثَةِ فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ
کتاب: مشروبات کا بیان اگر مہمان کے ساتھ جس کو بلایا گیا،اس کے علاوہ کوئی اور بھی پیچھے چل پڑے تو وہ کیا کرے؟کھلانے والے کی طرف سے،ساتھ آنے والے کے لیے اجازت د ینا مستحب ہے ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارس سے تعلق رکھنے والا پڑوسی شوربا اچھا بناتا تھا،اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے شوربا تیار کیا،پھرآکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:"ان کو بھی دعوت ہے؟"اس نے کہا:نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" نہیں(مجھے بھی تمہاری دعوت قبول نہیں) وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے آیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" ان کو بھی؟"اس نے کہا:نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تو نہیں۔"وہ پھر دعوت دینے کے لئے آیا ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ان کو بھی؟" توتیسری بار اس نے کہا:ہاں۔پھر آپ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ اس کے گھر آگئے۔