صحيح مسلم - حدیث 5308

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا صحيح و حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَلْيَسْلُتْ أَحَدُكُمْ الصَّحْفَةَ وَقَالَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمْ الْبَرَكَةُ أَوْ يُبَارَكُ لَكُمْ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 5308

کتاب: مشروبات کا بیان انگلیاں اور کھانے کا برتن چاٹنے اور نیچے گرجانے والے لقمے کو جو ناپسند چیز لگی ہے،اسے صاف کرکے کھالینے کااستحباب اور اس کو چاٹنے سے پہلے ،کہ برکت اسی میں ہوسکتی ہے،ہاتھ پونچھنا مکروہ ہے اور سنت تین انگلیوں سے کھانا ہے عبدالرحمان بن مہدی نے کہا :ہمیں حماد نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی،مگرانھوں نےکہا:"تم میں سے ہر ایک پیالہ صاف کرے۔"اور فرمایا:" تمھارے کس کھانے(کے کس حصے) میں برکت ہے،یا(فرمایا:) کس کھانے میں تمھارے لئے برکت ڈالی جاتی ہے۔"