كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ مِنْ الطَّعَامِ وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ حَاتِمٍ الثَّلَاثَ وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ
کتاب: مشروبات کا بیان انگلیاں اور کھانے کا برتن چاٹنے اور نیچے گرجانے والے لقمے کو جو ناپسند چیز لگی ہے،اسے صاف کرکے کھالینے کااستحباب اور اس کو چاٹنے سے پہلے ،کہ برکت اسی میں ہوسکتی ہے،ہاتھ پونچھنا مکروہ ہے اور سنت تین انگلیوں سے کھانا ہے ابو بکر بن ابی شیبہ،زہیر بن حرب اور محمد بن حاتم نے کہا:ہمیں ابن مہدی نے سفیان سے حدیث بیان کی،انھوں نے سعد بن ابراہیم سے ،انھوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ،کہا:میں نے د یکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کے بعد اپنی تین انگلیاں چاٹ رہ تھے۔ابن حاتم نےتین کا ذکر نہیں کیا،اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں(ابن کعب بن مالک کے بجائے) عبدالرحمان بن کعب سے روایت ہے،انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ،کے الفاظ ہیں۔