كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَارَةِ الْمَاءِ وَاللَّبَنِ وَنَحْوِهِمَا عَنْ يَمِينِ الْمُبْتَدِئِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ وَكُنَّ أُمَّهَاتِي يَحْثُثْنَنِي عَلَى خِدْمَتِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَارَنَا فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ شِمَالِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ فَأَعْطَاهُ أَعْرَابِيًّا عَنْ يَمِينِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ
کتاب: مشروبات کا بیان دودھ،پانی یاکوئی اورمشروب تقسیم کرتے ہوئے ابتداء کرنے والے کی دائیں طرف سے شروع کرنا مستحب ہے سفیان بن عینیہ نے زہری سے،انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ،کہا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو میں دس برس کا تھا۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا۔میری مائیں(والدہ،خالائیں،پھوپھیاں)مسلسل مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کا شوق دلایاکرتی تھیں۔ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے،ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں گھر کے کنوئے کا پانی ملایاگیا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی ۔اور اس وقت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب تھے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ابو بکر کو عنایت فرمادیجئے،لیکن آپ نے وہ(دودھ کا برتن) اپنی دائیں جانب(بیٹھے ہوئے) بدو کو تھمادیا اور فرمایا؛"دایاں،پھر(اس کےبعد والا) دایاں۔"