كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ صحيح و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ يَوْمًا يَنْزِلُ فِيهِ وَبَاءٌ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ قَالَ اللَّيْثُ فَالْأَعَاجِمُ عِنْدَنَا يَتَّقُونَ ذَلِكَ فِي كَانُونَ الْأَوَّلِ
کتاب: مشروبات کا بیان مغرب کے بعد برتن کو ڈھانک دینا،مشکیزے کا منہ باندھ دینا،(گھر کے) دروازے بند کردینا،ان پر اللہ کا نام پڑھنا،نیند کے وقت چراغ اور آگ بجھا دینا اور بچوں اور جانوروں کو اندر روک لینا مستحب ہے علی جہضمی نے کہا:ہمیں لیث بن سعد نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر انھوں نے اس (حدیث) میں یہ کہا؛"سال میں ایک ایسا دن ہے جس میں وبانازل ہوتی ہے۔"(علی نے) حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا:لیث نے کہا:ہمارے ہاں کے عجمی لوگ کانون اول (یعنی دسمبر) میں اس وبا سے بچتے ہیں(بچنے کے حیلے کرتے ہیں۔)