كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا صحيح حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ أَبِي عُمَرَ الْبَهْرَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْتَبَذُ لَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَيَشْرَبُهُ إِذَا أَصْبَحَ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَاللَّيْلَةَ الَّتِي تَجِيءُ وَالْغَدَ وَاللَّيْلَةَ الْأُخْرَى وَالْغَدَ إِلَى الْعَصْرِ فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَصُبَّ
کتاب: مشروبات کا بیان جو نبیذ تیز اور نشہ آور نہ ہو گئی ہو۔جائز ہے معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے یحییٰ بن عبید ابو عمر بہرا نی سے روایت بیان کی کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کے ابتدا ئی حصے میں (کھجوریں )پانی میں ڈال دی جا تی تھیں جب آپ صبح کرتے تو اسے (پیتے )اور جو رات آتی (اس میں ) پیتے اور صبح کو اور اگلی رات کو اس کے بعد کا دن عصر تک اگر کچھ بچ جا تا تو خادم کو پلا دیتے (تا کہ ختم ہو جا ئے) یا (اگر کو ئی پینے والا نہ ہو تا یا بچ جا تی تو) اس کو گرا دینے کا حکم دیتے ۔