كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا صحيح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيذِ فِي الْأَوْعِيَةِ قَالُوا لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ فَأَرْخَصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ
کتاب: مشروبات کا بیان روغن زفت ملے ہوئے اور کدو سے بنےہوئے،مٹی کے سبز اور کھوکھلی لکڑی کے بنے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت(کی گئی تھی)،آج یہ حلال ہے بشرط یہ کہ وہ نشہ آور نہ ہوجائے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بعض خاص) برتنوں میں نبیذ (بنانے )سے منع فرما یا (اور مشکیزوں میں مشروب بنا نے اور پینے کا حکم دیا )تو لو گو ں نے کہا :ہر شخص کو (مشکیزے یا دوسرے برتن )میسر نہیں ہو تے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے ایسے گھڑوں کی اجازت دی جس میں روغن زفت ملا ہوا نہ ہو ۔