كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا صحيح حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: «حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ»، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ؟ قَالَ: وَمَا يَقُولُ؟ قُلْتُ: قَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ، حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، فَقُلْتُ: وَأَيُّ شَيْءٍ نَبِيذُ الْجَرِّ؟ فَقَالَ: «كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنَ الْمَدَرِ»
کتاب: مشروبات کا بیان روغن زفت ملے ہوئے اور کدو سے بنےہوئے،مٹی کے سبز اور کھوکھلی لکڑی کے بنے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت(کی گئی تھی)،آج یہ حلال ہے بشرط یہ کہ وہ نشہ آور نہ ہوجائے یعلیٰ بن حکیم نے سعید بن جبیر سے روایت کی،کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گھڑوں کی نبیذ کے متعلق سوال کیا،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذ کوحرام قرار دیا ہے۔میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور کہا:کہا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا فرماتے ہیں؟انھوں نےکہا: وہ کیا کہتے ہیں؟میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں نبیذ بنانے کو حرام کر دیا ہے۔تو انھوں(ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا:حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام کردیا ہے۔میں نے پوچھا:گھڑوں کی نبیذسے کیا مراد ہے؟انھوں نے کہا:ہر وہ برتن جو مٹی سے بنایا جائے۔(اس میں بنائی گئی نبیذ)