كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا صحيح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُوَيْدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ الْمُزَفَّتِ الْمُقَيَّرَ
کتاب: مشروبات کا بیان روغن زفت ملے ہوئے اور کدو سے بنےہوئے،مٹی کے سبز اور کھوکھلی لکڑی کے بنے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت(کی گئی تھی)،آج یہ حلال ہے بشرط یہ کہ وہ نشہ آور نہ ہوجائے عبدالوہاب ثقفی نے کہا:ہمیں اسحاق بن سوید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی مگر انھوں نے روغن زفت ملے ہوئے برتن کی بجائےمقیر(روغن قار ملا برتن) بتایا۔(دونوں سے ایک ہی چیز،نباتاتی تیل مراد ہے۔)