كِتَابُ الْإِيمَانِ بَابُ أَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا صحيح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ»
کتاب: ایمان کا بیان اہل جہنم میں سب سے کم عذاب والے شخص شعبہ نے ابو اسحاق سے سن کر حدیث بیان کی، انہوں نےکہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر کو خطاب کرتے ہوئے سنا، کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سےسنا:آپ نے فرمایا:’’قیامت کےدن دوزخیوں میں سے سب کم عذاب اس آدمی کو ہو گا جس کے تلووں کےنیچے آگ کے دو انگارے رکھے جائیں گے، ان سے اس کا دماغ کھولے گا۔‘‘