كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ صحيح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ قَالَ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الْفَضِيخِ فَقَالَ مَا كَانَتْ لَنَا خَمْرٌ غَيْرَ فَضِيخِكُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ إِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِيهَا أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا أَيُّوبَ وَرِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ هَلْ بَلَغَكُمْ الْخَبَرُ قُلْنَا لَا قَالَ فَإِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَقَالَ يَا أَنَسُ أَرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ قَالَ فَمَا رَاجَعُوهَا وَلَا سَأَلُوا عَنْهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ
کتاب: مشروبات کا بیان شراب کی حرمت اور اس بات کا بیان کہ شراب انگور،خشک کھجور ،ادھ کچی اور کشمش وغیرہ کے رس سے بنتی ہے جو نشہ آور ہو تی ہے عبد العز یز بن صہیب نے کہا: لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فضیخ (ملی جلی کچی اور پکی ہو ئی کھجوروں کا رس جس میں خمیراٹھ جا ئے) کے متعلق سوال کیا ۔انھوں نے کہا: تمھا رے اس فضیخ کے علاوہ ہماری کو ئی شراب تھی ہی نہیں یہی شراب تھی جس کو تم فضیخ کہتے ہو، میں اپنے گھر میں کھڑے ہو کر یہی شراب حضرت ابو طلحہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر ساتھیوں کو پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا : تمھیں خبر پہنچی ؟ ہم نے کہا : نہیں ۔ اس نے کہا : شراب حرام کر دی گئی ہے۔ تو (ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے )کہا :انس ! (شراب کے) یہ سارے مٹکے بہا دو۔ اس آدمی کے خبر دینے کے بعد ان لوگوں نے نہ کبھی شراب پی اور نہ اس کے بارے میں (کبھی ) کچھ پوچھا۔